
https://drakbarabbas.com/otosclerosis-stapedotomy-with-flouroplastic-piston-0-5mm-diameter/

Leiomyosarcoma of The Larynx : A Case Report.
Leiomyosarcoma of The Larynx is a very rare malignancy that originates from blood vessel, smooth muscle or from the heterotopic mesenchymal tissue in the larynx

کوکلیر امپلانٹ کیا ہے? کو کلیر امپلانٹ ایک ایسا الہ ہےجو سماعت سے محروم بچوں یا بڑوں کے کان میں ایک مختصر اپریشن کے ذریعےنصب کر دیا جاتا ہے
میرا نام ڈاکٹر اکبر عباس ہے اور میں ایک ہی این ٹی سرجن ہوں
کوکلیر امپلانٹ کے دو حصے ہوتے ہیں جیسے کہ یہ ہاتھ میں موجود ایک اعلی نظر ا رہا ہے یہ امپلانٹ میں موجود اندرونی حصہ ہےاسے ہم کوکلیر امپلانٹ بھی کہتے ہیں اور یہ اپریشن کے درمیان کان میں نصب کر دیا جاتا ہے
جیسے کہ اپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک باریک سی تار اٹیچڈ ہے یہ تار کان کے اندرونی حصے کوکلیئر میں نصب کر دی جاتی ہےاور اس کے ذریعے اواز کے جو سگنل ہیں وہ کان کے اندرونی حصے میں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ پہلے نہیں پہنچ رہے ہوتے
بائیں جانب اپ دیکھ رہے ہیں یہ امپلانٹ کا باہر کا حصہ ہے اسے ہم پروسیسر بھی کہتے ہیں یہ اپریشن کے چند دن بعد کان کے بیرون حصے پہ مقناطیس کے ذریعے باسانی لگایا جا سکتا ہےاس کو نہاتے وقت اور رات کو سوتے وقت باسانی اتار کے رکھا جا سکتا ہےاس کے اندر اس کی ریچارجیبل بیٹری بھی فکسڈ ہے
اس ڈائیگرام میں اپ دیکھ رہے ہیں کہ جو نیلے رنگ کا حصہ ہے جو کہ کوکلیا ہےاس کے اندر یہ باریک تار نصب کر دی گئی ہےاور اب یہ کام کرنے کے لیے تیار ہے
اور جو کان کے اوپر کالے رنگ کا اعلی اپ دیکھ رہے ہیں جوکاکیئر کا باہری حصہ ہےاسے سپیچ پروسیسر کہتے ہیں یہ باسانی اتارا بھی جا سکتا ہے
یہ جو بچے کی تصویر اپ کو نظر ارہی ہے یہ اپریشن کے چار دن بعد لے گئی ہےاور کان کے اوپر والے حصے پہ اپ کو سپیچ پروسیسر نظر ارہا ہےاور یہ جو سر کے اوپر اپ کو نظر ارہا ہے یہ حصہ مقناطیس کے ذریعے لگایا جاتا ہے اور وقت ضرورت اتارا بھی جا سکتا ہے اب یہ بچہ اپنی زندگی کی پہلی اواز سننے کے لیے بالکل ریڈی ہے
کوکلیر امپلانٹ ان تمام بچوں اور بڑوں کے لیےمفید ہے جن کو انتہائی شدید نوعیت کی سماعت سے محرومی ہےیعنی وہ بچے یا بڑے جو ہیئرنگ ایڈ سے فائدہ نہیں اٹھا پاتےکوکلیر امپلانٹ ان بچوں اور بڑوں میں سماعت کی بحالی کی امید ہے
#otolaryngology #cochlearimplant #deafness #deafnessinnewborns #headndneckcancer #earsurgery #pituitarysurgery #endoscopicsiunssurgery #EARNOSETHROAT #ENT #Cochlear implants in Pakistan #Cochlear implant in Karachi, #Best cochlear implant surgeon #Cochlear implant surgeon in Aga Khan Hospital #Skull base surgeon #Thyroid surgeon #pituitary gland surgeon #Ear surgeon #parotid tumors #best cochlear implant surgeon at Aga khan hospital
السلام علیکم نو زائدہ بچوں میں بہراپن - ہم اج جاننا چاہیں گے کہ بچوں میں ثقل سماعت یا بہرا پن کیوں ہوتا ہے اس کی کیا وجوہات ہیں اس کو ٹیسٹ کیسے کیا جاتا ہے اور اس کے حوالے سے کیا علاج ممکن ہے
نو زائدہ بچوں میں بہراپن جو ہے وہ پیدائشی طور پہ ہو سکتا ہے یا پیدائش کے فورا بعد بھی ہو سکتا ہےاس کو عام طور پر ہم اپنی اصطلاح میں پریلنگول ڈیفنس کہتے ہیںیہ اپ پوسٹ لنگول ڈیفنس بھی کہا جاتا ہے
پریلنگول ڈیفنس وہ ہوتی ہے جو بچہ زبان سیکھنے سے پہلے ہی بہرا ہو جائے جبکہ پوسٹ لینگویل ڈیفنس وہ ہے جو بچہ زبان سیکھ جائےبولنا شروع کر دے اور اس کے بعد کسی انفیکشن یا خسرہ یا کسی وائرل بیماری کی وجہ سے اپنی سماعت کھو دے
زیادہ تر جو بچے بہرے پیدا ہوتے ہیں ان کے ماں باپ نارمل ہوتے ہیں یعنی ان کے ماں باپ دونوں کو کوئی سننے کا پرابلم نہیں ہوتاعام طور پہ بچے بالکل ٹھیک سماعت والے ماں باپ کے گھر پیدا ہوتے ہیں
اب ہم ہیرنگ لاس کی ٹائپس کے بارے میں بات کرتے ہیں ہیرنگ لاس کی چار ٹائپس ہوتی ہیں
مائلڈ ماڈریٹ سویر اور پروفاؤنڈ
مائلڈ یعنی کہ معمولی ہیرنگ لاس ماڈریٹ یعنی کہ درمیانے درجے کا ہیرنگ لاس سویر یعنی کہ شدید ہیرنگ لاس اور پروفاؤنڈ کا مطلب بالکل ہی بہرا جس کو ذرا سی بھی اواز نہ سنائی دے
اب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ہیرنگ لاس ہوتا کیوں ہے
اپ کے سامنے ایک تصویر ہے جو کان کا اندرونی منظر اپ کو دکھا رہا ہےاس میں جو ہرے رنگ کا حصہ ہے یہ کوکلیئر کہلاتا ہے کان کے اس حصے سے ہم سنتے ہیں اس کے ساتھ جو پیلے رنگ کی نروز نظر ارہی ہیں یہ دماغ تک جاتی ہیں
اس ہرے رنگ کے حصے میں جو کہ کوکلیئر کہلاتا ہے ہیرنگ سیلز ہوتے ہیں اور 99 فیصد کیسز میں پیدائشی طور پہ یا کسی انفیکشن یا بیماری کی وجہ سے اس کو کلیئر کے اندر جو ہیرنگ سیلز ہیں ان کی تعداد کم ہو جاتی ہے اس کم ہو جانے کی وجہ سے بچے کی سننے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہےاس کو میڈیکل ٹرم میں ہیر سیل لاس کہتے ہیں
میجورٹی بچوں میں یہ ہیر سیل لاس ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ سن نہیں پاتےاب چونکہ وہ سن نہیں پاتے تو بول بھی نہیں پاتے یہ سارا مسئلہ اندرونی کان جسے ہم کوکلیئر کہتے ہیں وہاں ہوتا ہے
اب یہ دوسری تصویر دیکھیں اس کے اندر یہ جو لمبے سیلز نظر ارہے ہیں ہر انسان میں یہ 30 ہزار ہوتے ہیں اگر ان کی تعداد ایک مخصوص مقدار سے کم ہو جائے توسماعت یعنی سننے کی حس متاثر ہوتی ہے
اب مختصرطور پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے
جن ہسپتالوں میں نیو نیٹل سکریننگ موجود ہے وہاں تو اس کی تشخیص بچے کی پیدائش کے وقت ہو جاتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے ہسپتالوں کی تعداد اٹے میں نمک کے برابر ہے
اس کے بعد ہم بچے کی پیدائش کے پانچ سے چھ مہینے میں ایک ٹیسٹ کرتے ہیں جسے بیرا کہتے ہیں یہ ٹیسٹ بہت ساری جگہوں پہ کرایا جا سکتا ہے اور بہت کام کا ٹیسٹ ہے اس سے ہمیں یہ پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ سن رہا ہے یا نہیں سن رہا اور اگر سن رہا ہے تو کتنا سن رہا ہےاس کے علاوہ ایک اور ٹیسٹ ہم کرتے ہیں اس سے ملتا جلتا ہی ہے اس کو ہم اے ایس ایس ار کہتے ہیں یہ بھی خاصہ مددگار ہوتا ہے تشخیص کے سلسلے میں
تھوڑے بڑے بچوں میں ہم بیہیویرل اڈیو میٹری بھی کر سکتے ہیں اور پانچ سال یا اس سے بڑے بچوں میں پیور ٹون اڈیو میٹری بھی کرتے ہیں جس کو سماعت کا ٹیسٹ کہا جاتا ہے
اگر تو بچے میں مائلڈ ہیئرنگ لاس ہے یعنی معمولی ہیرنگ لاس یا درمیانے درجے کا ہیرنگ لاس ہے تو ہیرنگ ایڈ اور سپیچ تھیراپی بچے کو سننے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے اور بچہ نارمل طریقے سے بولنے کے قابل ہو جاتا ہےاگر سویر یا شدید ہیئرنگ لاس ہے تو پھر بچہ ہیرنگ ایڈ سے نہیں سنے گا اس کے لیے اسے کو کلیر امپلانٹ کا اپشن ہمارے پاس ہے اگلی جو ہماری گفتگو ہوگی اپ کے ساتھ اس میں ہم ڈسکس کریں گے کہ کوکلیرامپلانٹ کیسے کام کرتے ہیں اور کن بچوں کو لگایا جا سکتا ہے
بہت شکریہ
#otolaryngology #cochlearimplant #deafness #deafnessinnewborns #headndneckcancer #earsurgery #pituitarysurgery #endoscopicsiunssurgery #EARNOSETHROAT #ENT #Cochlear implants in Pakistan #Cochlear implant in Karachi, #Best cochlear implant surgeon #Cochlear implant surgeon in Aga Khan Hospital #Skull base surgeon #Thyroid surgeon #pituitary gland surgeon #Ear surgeon #parotid tumors #best cochlear implant surgeon at Aga khan hospital
Oral Squamous Cell Carcinoma in Youth: To assess the aggressiveness of oral squamous cell carcinoma in young population.
The paper aims to assess the recurrence and disease-free survival in oral squamous cell carcinoma patients, and to compare them between two age groups.

Carotid Body Tumor Down - A "Fast & Flawless" Success Story
Ah, a complex case indeed! This 35-year-old gentleman presented with a Shamblin grade 2 carotid body tumor (paraganglioma), a notoriously tricky mass due to its proximity to critical vasculature. His previous embolization attempt for the tumor, where middle cerebral artery was accidentally embolized, unfortunately resulted in an infarct – a worrying complication. Understandably, his family hesitated to consent to another such procedure.
But fear not! Our "Fast and Flawless" ENT team, accustomed to high-stakes maneuvers, decided to forge a different path. We meticulously dissected, identifying and securing the tumor's feeding vessels – the superior thyroid artery and the ascending pharyngeal artery. Precision was paramount, as any misstep could compromise blood flow to vital structures.
With meticulous technique, we meticulously mobilized the tumor away from the treacherous internal jugular vein and carotid arteries. Tension hung heavy in the air, but our focus remained unwavering. And then, the moment of triumph: the entire tumor, in all its complexity, was excised in one swift yet masterful move, clocking in at an impressive 58 minutes!
https://youtube.com/shorts/oTf4SAUfiLA
Carotid Tumor Body Removal
Even more remarkable? Blood loss was minimal, a mere 50ml – a testament to our team's meticulous hemostasis. No transfusion was needed, further reducing potential complications. And the best news? Our patient emerged from surgery neurologically intact, all cranial nerves functioning flawlessly. His recovery was swift, allowing him to return home the very next day – a joyous occasion for all involved.
This case highlights the importance of collaboration, meticulous technique, and a touch of daring when tackling complex challenges. While the previous embolization attempt presented a setback, our team's expertise and swift action ensured a successful outcome. Alhamdulillah, indeed! This case serves as a reminder that even in the face of unexpected complications, innovation and teamwork can pave the way for exceptional outcomes.
DR Akbar Abbas's Team: Dr Sami Dogar, Dr Deepak Rai, Dr Zubair, Dr Wizra, Emaan MS, Samrron and Ziauddin Scrub Nurse.
This is an educational video for students and patients for making informed decisions about their own and others health. The surgery was performed by Dr Akbar Abbas who is one of the best ENT specialist in Karachi, Pakistan. He specializes in otolaryngology, cochlear implants, ear surgery and is one of the few experts on pituitary and head and neck cancer surgery in Pakistan. Presently serving at Aga Khan University Hospital.
#otolaryngology #cochlearimplant #deafness #deafnessinnewborns #headndneckcancer #earsurgery #pituitarysurgery #endoscopicsiunssurgery #EARNOSETHROAT #ENT #Cochlear implants in Pakistan #Cochlear implant in Karachi, #Best cochlear implant surgeon #Cochlear implant surgeon in Aga Khan Hospital #Skull base surgeon #Thyroid surgeon #pituitary gland surgeon #Ear surgeon #parotid tumors #best cochlear implant surgeon at Aga khan hospital

To see the rate of publication of postgraduate residents' FCPS dissertations. The single-centre retrospective cross-sectional study was conducted at the Aga Khan University Hospital, Karachi, and comprised research publications from the residents of the departments of Surgery and Medicine who graduated between 2005 and 2020. The surgical subspecialties included Otolaryngology, Ophthalmology, Dentistry, General Surgery, Orthopaedics, Paediatric Surgery, Urology, Plastic Surgery and Cardiovascular Surgery.
https://drakbarabbas.com/stapedotomy-for-otosclerosis-by-dr-syed-akbar-abbas-ent-head-neck-and-cochlear-implant-surgeon/